مقامی میڈیا کے مطابق پولیس نے گذشتہ ہفتے ایک فلسطینی شخص کو اس وقت گرفتار کر لیا جب انھوں نے فیس بک پر عربی زبان میں گڈ مارننگ لکھا تاہم ترجمے کی غلطی کی وجہ سے عبرانی زبان میں اسے ان پر حملہ کرناپڑھا گیا۔

 

اسرائیلی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ تعمیراتی ورکر کو اشتعال دلانے کے شبہے میں کچھ دیر کے لیے حراست میں رکھا گیا تاہم ترجمے کی غلطی معلوم ہونے پر اسے رہا کر دیا گیا۔

 

اخبار دی ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق مقامی عربی زبان میں کسی کا خیر مقدم کرنے اور کسی کو کوسنے کے لیے جو الفاظ ہیں ان میں صرف ایک ہی حرف کا فرق ہے۔اطلاعات کے مطابق مذکورہ فلسطینی شخص کی گرفتاری سے پہلے کسی عربی زبان بولنے والے اہلکار سے مشورہ نہیں کیا گیا اور صرف فیس بک کے خودکار ترجمے پر ہی انحصار کیا گیا۔ فیس بک پر مذکورہ پوسٹ کو ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے۔