سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان نے ممکنہ طور پر آئندہ ہفتے اپنے 32 سالہ بیٹے محمد بن سلمان کو بادشاہت سونپنے کا فیصلہ کرلیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ شاہ سلمان نے یہ فیصلہ محمد بن سلمان کے 40 شہزادوں اور سرکاری حکام کی گرفتاری کے احکامات کے پیش نظر کیا۔

ڈیلی میل کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ محمد بن سلمان تاج سنبھالنے کے بعد اپنی ساری توجہ اپنے مبینہ حریف ملک ایران کی طرف مبذول کرلیں گے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر کسی قسم کی غیر متوقع صورت حال پیش نہیں آتی، تو سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان اگلے ہفتے تک محمد بن سلمان کو سعودی عرب کا اگلا فرماں روا بنانے کا اعلان کردیں گے۔

رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ محمد بن سلمان اسرائیلی فوج کی سے لبنانی مسلح تنظیم حزب اللہ کے خلاف کارروائی کریں گے، جسے ایران کی حمایت حاصل ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ محمد بن سلمان شاہی خاندان کے بیشتر افراد کے موقف کے خلاف ایران اور حزب اللہ کو اپنا پہلا حدف بنانا چاہتے ہیں اور اس کام کے لیے انہوں نے لبنان میں جنگ کی شروعات کا منصوبہ تیار کر رکھا ہے جبکہ انہوں نے اسرائیل کی حمایت کرنے پر اسے اربوں ڈالر امداد دینے کا پہلے ہی اعلان کر رکھا ہے۔

رپورٹ کے مطابق شاہ سلمان اپنا عہدہ چھوڑنے کے بعد صرف مقدس مقامات کی حفاظت پر مامور رہیں گے۔

قبل ازیں برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سعودی عرب کے شاہی فرمان کے مطابق سعودیہ کے فرماں روا شاہ سلمان نے 31 سالہ بیٹے کو ترقی دے کر ملک کا ممکنہ اگلا فرماں روا نامزد کردیا تھا۔

خیال رہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بہت تیزی سے سعودی عرب اور دنیا کے چند طاقتور ترین افراد کی صورت میں ابھر کر سامنے آئے ہیں۔

مزید پڑھیں: سعودی فرماں روا نے اپنے بیٹے کو ولی عہد نامزد کردیا

32 سالہ شہزادے کو سعودی عرب کی فوج، خارجہ پالیسی، معیشت اور روزمرہ کی مذہبی اور ثقافتی زندگی پر اثررسوخ حاصل ہوچکا ہے۔

سعودی ولی عہد کو ہی اس وقت اسلامی مملکت میں جاری کرپشن کے خلاف مہم کا روح رواں سمجھا جارہا ہے اور ان کی ذات میں طاقت کا ایسا اجماع ہوچکا ہے جو اس سے قبل سعودی عرب کی تاریخ میں کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔

خیال یہ کیا جارہا ہے کہ طاقتور ترین سعودی شہزادے محمد بن سلمان مشرق وسطیٰ کی تاریخ بدلنے جارہے ہیں۔