ترکی کے مغربی علاقے سوما میں واقع کوئلے کی کان میں دھماکے اور آتشزدگی کے حادثے کے بعد مختلف شہروں میں حکومت مخالف مظاہرے شروع ہو گئے ہیں، جبکہ ملک کی مزدور یونینوں نے بھی ایک دن کی ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔

منگل کو کان میں دھماکے کے نتیجے میں حکام کے مطابق 282 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جب کہ تقریباً 100 افراد ابھی تک کان میں پھنسے ہوئے ہیں۔

امدادی کارکنوں نے 450 کے قریب کان کنوں کو باہر نکال لیا ہے جبکہ کان میں پھنسے درجنوں کان کنوں کی تلاشی کی کارروائیاں جاری ہیں۔

مزدور یونینوں کا کہنا ہے کہ حال ہی میں کان کنی کے شعبے کی نجکاری کی وجہ سے کانوں میں کام کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔

ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردگان نے علاقے کا دورہ کیا اور لوگوں کے ساتھ اظہارِ تعزیت کیا۔ اس موقعے پر مشتعل افراد نے وزیراعظم کی گاڑی کو گھیر لیا اور ان کے خلاف نعرے لگائے۔

ترکی کے دارالحکومت انقرہ اور استنبول میں احتجاجی مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک بار گولوں اور پانی کی توپوں یا پانی کی تیز بوچھاڑ کا استعمال کیا ہے۔

مظاہرین ملک میں کان کنی کے بدترین حادثے پر حکومت سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق سوما میں بھی مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی ہے اور چند مظاہرین کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بھی وزیراعظم کے اس بیان پر غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے جس میں انھوں نے سوما کے دورے کے موقعے پر ملک میں کان کنی کے حادثات کا دفاع کرتے ہوئے برطانیہ میں 19ویں صدی میں کان کے حادثے سمیت متعدد حادثات کا ذکر کیا۔

اس سے پہلے ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردگان نے سوما کے دورے کے موقعے پر لوگوں کے ساتھ اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ امدادی کاموں کے لیے تمام دستیاب وسائل کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے ملک میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

پاکستانی وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے بھی اس حادثے پر شدید رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور ترک عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے 15 مئی کو پاکستان میں یومِ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

حادثے سے متاثرہ کان میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور جس وقت ایمبیولینس ہلاک شدگان کی لاشیں لے جا رہی تھی تو ان کے رشتے دار آہ و زاری اور غم سے نڈھال نظر آئے۔

کان میں پھنسے لوگوں کے اہلِ خانہ موقعے پر جمع ہو گئے ہیں اور اس وقت کان اور مقامی ہسپتال کے باہر لوگوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہے۔

ہسپتال کے باہر لوگوں کا کہنا ہے کہ جب تک وہ اپنے عزیزوں کے بارے میں کوئی خبر نہیں سن لیتے وہ وہاں سے نہیں جائیں گے۔

ترکی کے وزیرِ توانائی تانر یلدیز نے ٹیلی ویژن پر ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حادثے کے وقت کان میں 780 سے زیادہ کان کن موجود تھے۔

انھوں نے کہا کہ کان میں بجلی کی ترسیل کے نظام میں خرابی کی وجہ سے دھماکہ ہوا اور اس کے نتیجے میں کان میں نصب لفٹیں اور تازہ ہوا پہنچانے کا نظام بند ہو گیا۔

دھماکے کے بعد امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی تھیں تاہم جس جگہ یہ کان کن پھنسے ہوئے ہیں وہ زمین سے دو کلومیٹر نیچے اور کان کے منہ سے چار کلومیٹر دور ہے۔

مقامی اہلکار محمد بہتن آتچی نے بتایا کہ اس نجی ملکیتی کان میں دھواں بھر گیا ہے جس کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیشتر صنعتی ممالک کے مقابلے میں ترکی میں کوئلے کی کانوں کا حفاظتی ریکارڈ زیادہ اچھا نہیں۔

ترکی میں کان کنی کا بدترین حادثہ 1992 میں پیش آیا تھا جب بحیرۂ اسود کے قریب واقع ایک کان میں حادثے سے 270 کان کن ہلاک ہوگئے تھے۔

login with social account

7.png

Images of Kids

Events Gallery

Currency Rate

/images/banners/muzainirate.jpg

 

As of Fri, 24 Nov 2017 10:44:11 GMT

1000 PKR = 2.867 KWD
1 KWD = 348.760 PKR

Al Muzaini Exchange Company

Go to top