اسلام آباد (سٹاف رپورٹر+ نیٹ نیوز+ نوائے وقت رپورٹ) دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بلوچستان کے بارے میں جو نازیبا بیان دیا تھا صوبے کے عوام نے بھرپور احتجاجی مظاہروں کے ذریعے انہیں منہ توڑ جواب دیدیا ہے۔ افغانستان اپنی سرزمین بھارت کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے روکے۔ ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر سمیت تمام ایشوز پر بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات چاہتے ہیں لیکن بھارت ہر بار مذاکراتی عمل سے کسی نہ کسی بہانے سے بھاگ جاتا ہے حالانکہ مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہیں اور کسی ایک واقعہ کو مذاکرات ختم کرنے کا جواز نہیں بنانا چاہیے۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بہت سنجیدہ ہے، بھارت کی طرف سے انسانی حقوق کی بگڑتی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ جب بھی دونوں ممالک کے مذاکرات ہوں گے، کشمیر کا معاملہ سرفہرست ہو گا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج کی طرف سے جو ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا گیا ہے، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں، بھارت کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق سلب کئے ہوئے ہے، وہاں مظالم کا معاملہ اٹھانے پر بھارت کی طرف سے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے دفاتر بند کئے جارہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کمیٹی کو حقیقت حال جاننے کے لئے مقبوضہ کشمیر میں ’’فیکٹ فائنڈنگ مشن‘‘ بھیجنے کی اجازت نہیں دی جارہی، او آئی سی کے مشن کو صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے مقبوضہ کشمیر کے دورے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خاتمہ اور ان کی مذمت میں تمام اہم فورموں پر بات کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی کشمیر پر قرارداد کزشتہ 6دھائیوں سے اپنے حل کا انتظار کر رہی ہے۔ بھارتی صحافی جان بوجھ کر امریکی محکمہ خارجہ کی بریفنگز میں میں بلوچستان کا معاملہ اٹھانے کی جھوٹی کوششیں کر رہے ہیں تاکہ دنیا کی بھونڈے انداز میں مقبوضہ کشمیر میں کئے جانے والے مظالم سے نظریں ہٹائی جا سکیں لیکن اس طرف سے عالمی برادری کی آنکھیں بند نہیں کی جا سکتیں۔ بھارتی افواج کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر میں80 سے زاید افراد شہید اور 7000 کے قریب کشمیری زخمی ہو چکے ہیں۔ ابھی تک بھارتی فوج کے ہاتھوں چھرے والی بندوقوں کے استعمال سے آنکھوں پر زخم کھانے والوں کی تعداد 500 تک پہنچ چکی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا دورہ پاکستان منسوخ کرنے کے حوالے سے کسی بیان سے آگاہ نہیں۔ پیٹر لیوائے کا دورہ پاکستان معمول کے دورے کا حصہ ہے۔ ابھی تک جان کیری کے دورے کی تاریخ بھی موصول نہیں ہوئی۔ الطاف حسین کے حوالے سے وزارت داخلہ معاملات دیکھ رہی ہے۔ الطاف حسین کے معاملہ پر وزارت داخلہ نے کئی مواقع پر برطانوی حکومت سے معاملہ اٹھایا۔ وزارت داخلہ کے برطانوی وزارت داخلہ معاہدوں کے تحت ایسے بہت سے معاملات پر رابطے موجود ہیں۔ سارک ممالک کے درمیان باہمی تجارت کا عمل انتہائی کم رفتار ہے۔ پاکستان سارک ممالک کی 19ویں کانفرنس کی میزبانی نومبر میں کر رہا اس حوالے سے تمام اقدامات جاری ہیں۔ ہم سارک کانفرنس کے حوالے سے پرامید ہیں۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ گزشتہ 15برس میں افغانستان میں طاقت کے استعمال کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ افغان باہمی امن مذاکرات افغان حکومت کے امن عمل کے حوالے سے خواہشات کی ترجمانی کرتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ناقابل برداشت ہیں۔ طارق فاطمی این ایس جی پر حمایت کے لیے چند ممالک کے دورے پر ہیں۔ ہمیں بھارت اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ معاہدوں پر کوئی اعتراض نہیں لیکن افغانستان اپنی سرزمین بھارت کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے روکے۔ 15 برس میں افغانستان میں طاقت کے استعمال کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا، افغانستان کے مسئلے کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث مسئلہ کشمیر کا حل نہیں نکل رہا۔ بھارت سے گزشتہ 40 سال سے بہت سے معاملات پر اختلافات ہیں۔ سارک ممالک کی سربراہی کانفرنس کے لئے تمام ممالک نے شرکت کی تصدیق کر دی ہے۔ سارک ممالک کو غربت اور پسماندگی اور مہنگائی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ دریں اثنا ترجمان دفتر خارجہ نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہاں دوستی گیٹ افغانیوں کی طرف سے پاکستانی جھنڈا جلانے کے بعد بند کیا گیا ہے۔ افغانستان کے ساتھ بارڈر پر انٹری پوائنٹس پر نگرانی کی جا رہی ہے۔ افغانستان کے ساتھ سرحدی نظام میں بہتری دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔ افغانستان میں امن پاکستان کی خواہش ہے۔ ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں مفاہمتی عمل صرف پاکستان کی نہیں افغانستان، امریکہ، چین کی بھی مشترکہ ذمہ داری ہے، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر بھارت کے ظلم و ستم کا نوٹس لے، پاکستان کابل میں دہشتگردی کے واقعات کے پرزور مذمت کرتا ہے۔ افغانستان کیساتھ بارڈر پر انٹری پوانئٹس پر نگرانی کی جا رہی ہے۔ پاکستان نے بھارت کو متعدد بار مذاکرات کی دعوت دی، بھارت مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر مسلسل ظلم کر رہا ہے۔ ہماری کوشش ہے عالمی برادری کو بھارت فورسز کی جانب سے نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم کے اقدامات سے آگاہ کیا جائے۔

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر+ ایجنسیاں) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع و خارجہ امور کے مشترکہ اجلاس کو بتا یا گیا ہے کہ پاکستان افغان سرحدی انتظام کے تحت سلامتی کو موثر بنانے کے لئے فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کے 72ونگز بنائے جارہے ہیں، طور خم کے بعد چمن بارڈر سمیت 4 بڑے کراسنگ پوائنٹس پر نقل و حرکت کی موثر نگرانی کے لئے پاکستان کی طرف کام جاری ہے، پاکستان افغان سرحد پر پاکستان کی حدود میں 6 پوسٹیں قائم ہیں جبکہ افغانستان میں صرف ایک چیک پوسٹ ہے، ملکی دفاعی ضروریات سے آگاہ ہیں اور انہیں پورا کرنے کے لئے تمام آپشنز پر غور کر رہے ہیں جس کے لئے مختلف ممالک سے بات چیت جاری ہے، کسی افغان شہری کو دستاویزات کے ہمراہ اور جائز کام کے لئے آنے سے نہیں روکا جائے گا لیکن بغیر سفری دستاویزات اور بدامنی کرنے والوں کا راستہ ہمیشہ کے لئے بند کررہے ہیں۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع و خارجہ امور کا مشترکہ اجلاس سینیٹر مشاہد حسین سید اور سینیٹر نزہت یاسمین کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز، سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری، وزارت دفاع کے قائم مقام سیکرٹری ریئر ایڈمرل مختار خان کے علاوہ وزارت دفاع اور وزارت خارجہ کے دیگر حکام اور دونوں کمیٹیوں کے ممبران اس موقع پر موجود تھے ۔ قائم مقام سیکرٹری دفاع رئیر ایڈمرل مختارخان اور سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری نے کمیٹی کو بریفنگ دی۔ پاکستان افغان سرحدی انتظام کے حوالے سے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری نے بتا یا کہ پاکستان افغانستان میں امن کے قیام کے لئے ہر ممکن کوششیں کر رہا ہے، پاکستان اپنے اصولی موقف پر قائم ہے، ہمارا موقف ہے کہ امریکہ، افغانستان، چین، طالبان اور تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز اگر افغانستان کا مستقل حل چاہتے ہیں تو اس کا حل صرف باہمی ڈائیلاگ کے ذریعے ہی ممکن ہے، اس کے ساتھ ساتھ کچھ کام ایسے ہیں جو افغانستان کے اندر ہونے ہیں اور وہ افغان حکومت نے کرنے ہیں، سب سے پہلے افغان حکومت طالبان کو ٹھوس پیغام دیںکہ وہ مذاکرات کے حوالے سے سنجیدہ ہیں، افغان حکومت طالبان کے لئے ایک ایسا پیکج دے کہ وہ اگر انتہا پسندی کا راستہ ترک کرتے ہیں تو افغانستان میں ان کے لئے کوئی متبادل نظام ہو جس میں وہ معمول کی زندگی گزارنے کے قابل ہوسکیں‘ اگر ایسا کوئی پیغام افغان حکومت کی جانب سے طالبان کو جاتا ہے تو طالبان کو بھی احساس ہوگا کہ جنگ و جدل کی بجائے میز پر بیٹھ کو تمام معاملات حل کرنے میں ہی فائدہ ہے کیونکہ اگر افغانستان کی سکیورٹی فورسز بھی کامیاب نہ ہوئیں تو اسکے منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ سرحدی انتظام کو بہتر بنانے جیسے معاملات افغانستان سے باہر ہونا ہیں۔ افغان حکومت کی جانب سے غیر ریاستی عناصر کے داخل ہونے کی شکایات ہیں، اسی طرح پاکستان کو بھی تحفظات ہیں کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد افغانستان سے آتے ہیں اور کارروائی کرتے ہیں۔ ان تحفظات کے ازالے کیلئے پاک افغان سرحد پر انتظام کو موثر بنانا ہوگا کیونکہ یہ پاکستان اور افغانستان دونوں کے لئے فائدہ مند ہے۔ پاکستان اورافغانستان کے مابین سرحد پر واقع بڑے کراسنگ پوائنٹس پر ہزاروں لوگوں کی آمدوفت ہوتی ہے، پاکستان کسی افغان شہری کو دستاویزات کے ساتھ اور جائز کام کے لئے ملک آنے سے نہیں روکے گا لیکن بغیر سفری دستاویزات اور بدامنی کرنے والوں کا راستہ ہمیشہ کے لئے بند کررہے ہیں۔ سرحدی انتظام کے لئے افغانستان سے کافی عرصے سے بات چیت کا عمل جاری ہے، پاکستان سرحدی انتظام کو بہتر بنانے کے لئے اب اپنے علاقے میںکام کر رہا ہے‘ اس وقت تک طور خم بارڈر سمیت جہاں پر بھی سرحدی انتظام کو بہتر بنانے کے لئے پاکستان نے کام کیا ہے وہ پاکستان افغان سرحد پر اپنی حدود کے اندر کیا ہے‘ اگر افغانستان بھی پاکستان افغان سرحد پر اپنی طرف اس طرح کا کام کرے تو دونوں ممالک کے لئے یہ موثر اور فائدہ مند ہوگا۔ سرحد ی انتظام کو موثر بنانے کے لئے پاکستان طور خم طرز کی تعمیرات کریگا‘ پاکستان کی یہ اولین ترجیح ہے کہ پاکستان افغان سرحد کو محفوظ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاک افغان سرحدی انتظام سمیت دنیا کے ساتھ پاکستان تعلقات کی جو پالیسی ہے وہ کھلی کتاب کی مانند ہے‘ منتخب جمہوری حکومت نے جو بھی موقف اختیار کیا وہ عوامی امنگوں کے عین مطابق ہیں‘ عوام نے ہمیشہ حکومت کے موقف کی تائید کی۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے افغانستان کی حکومت کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے کی ہدایت کی تھی جس کی روشنی میں برادرملک کے ساتھ تمام معاملات خوش اسلوبی کے ساتھ طے کرنے کی پالیسی پر کام ہو رہا ہے۔ پاکستان افغان مفاہمتی عمل کو جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔ مشاہد حسین سید نے کہا کہ اسامہ بن لادن کے بعد ملا منصور پر حملہ دوسرا بڑا واقعہ ہے، اس بات کی تحقیقات ہونی چاہئیں کہ وہ لوگ پاکستان میں کیسے آئے اور انہیں کس طرح پاسپورٹ اور شناختی کارڈ جاری ہوئے ہیں۔ وزارت دفاع کے قائمقام سیکرٹری رئیر ایڈمل مختار احمد نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاک افغان سرحد پر موثر سرحدی انتظام کے لئے چار بڑے کراسنگ پوائنٹس پر کام ہورہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اپنی دفاعی ضروریات سے آگاہ ہے اور اس حوالے سے تمام آپشنز پر غور جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ نے فاٹا میں سرحدی انتظام کے لئے 100ملین ڈالر کی گرانٹ دی ہے اور اس منصوبے کی تکمیل تک مالی تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے لیکن اس بارے میں کچھ سیاسی اور سفارتی ایشوز ہیں جنھیں حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پاکستان افغان سرحدی انتظام کے لئے ایف سی کی 72ونگز بنائی جارہیں ہیں‘ اس پر کام تیزی سے جاری ہے۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان میں ڈرون حملوں کے خلاف موقف کو پوری دنیا کی حمایت حاصل ہے، امریکہ پر واضح کر دیا ہے ڈرون حملے پاکستان کی سالمیت کے خلاف ہیں، ملا اختر منصور پر ہونے والے ڈرون حملے سے افغان امن عمل مذاکرات کو براہ راست نقصان پہنچا ہے۔ طالبان کا ایک گروپ مذاکرات کا حامی تو دوسرا مخالف ہے، پاکستان افغان بارڈر مینجمنٹ کو بہتر بنانے کے لئے مواثر اقدامات کیے جا رہے ہیں، بارڈر مینجمنٹ کے لئے سہولیات کو یقینی بنایا جائے گا، دستاویزات کے بغیر آنے والوں کو اجازت نہیں دی جائیگی۔ سیکرٹری خارجہ اعزاز چودھری نے کہا ہے کہ افغان بارڈر پر چار مقامات پر گیٹ تبدیل کئے جا رہے ہیں افغانستان کے ساتھ مفاہمتی عمل ہماری طرف سے پہلی ترجیح ہے، پاکستان اور افغانستان دونوں جانب سے یہی پیغام ہے کہ مسائل کا حل عسکری نہیں ہے، لیکن دونوں مرتبہ حالات ایسے پیدا کئے گئے کہ مسئلہ حل نہیں ہو پایا، افغانستان، طالبان اور حقانی کو بھی یہی پیغام ہے کہ مسائل کا حل بات چیت سے ہی نکلے گا، افغانستان سے بارڈر کے راستے ہزاروں لوگ آتے ہیں لیکن جو لوگ بدامنی کے لئے آتے ہیں انکا راستہ بند کرنا ہوگا، پاکستان نے جنوبی چین سمندری تنازعہ پر چین کے موقف کی تائید کی ہے، پاکستان کا موقف ہے اس معاملے کو انٹرنیشنل بنانے کی بجائے متعلقہ ممالک مل کر حل کریں چین پاکستان کے اصولی موقف سے خوش ہے، گذشتہ چند ماہ میں افغانستان سے 50 سے 60 تلخ بیانات آئے لیکن ہم نے کوئی جواب نہیں دیا۔

راولپنڈی (نوائے وقت رپورٹ + ایجنسیاں) آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی سے فون پر گفتگو ہوئی جس میں جنرل راحیل شریف نے امریکی یونیورسٹی پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق جنرل راحیل شریف نے دہشت گردی کے حملے کی شدید مذمت کی اور جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ جنرل راحیل شریف نے کہا کہ پاکستانی سرزمین کسی بھی صورت افغانستان میں کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں ہونے دیںگے۔ افغان حکام نے امریکی یونیورسٹی پر حملے میں مبینہ طور پر استعمال ہونے والے تین موبائل فون نمبر دیئے تھے جو مبینہ طور پر دہشت گرد حملے کے دوران حملہ آوروں کے زیر استعمال تھے ۔آئی ایس پی آر کے مطابق افغان حکام کی طرف سے فراہم کئے جانے والے تینوں موبائل نمبروں کی بنیاد پر پاک فوج نے پاک افغان بارڈر کے قریب عسکریت پسندوں کی موجودگی کی تصدیق کے لئے کومبنگ آپریشن شروع کیا جس کے دوران اس بات کی تصدیق ہوئی کہ یہ سمز ایک افغان کمپنی آپریٹ کر رہی ہے جس کے سگنل پاکستان افغانستان سرحدکے قریب بعض علاقوں میں آتے ہیں۔ اب تک کی تمام معلومات سے افغان حکام کو آگاہ کردیا گیا ہے۔ موبائل نمبروں کے بارے میں تکنیکی تجزیہ کیا جا رہا ہے۔ جنرل راحیل نے افغان صدر کو مزید معلومات فراہم کرنے کے حوالے سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔کابل کے مرکز میں واقع امریکن یونیورسٹی پر حملے میں8 طلبہ سمیت مرنے والوں کی تعداد 16 ہو گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ 10 گھنٹے کے آپریشن کے بعد سیکورٹی فورسز نے دو حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا۔ پولیس حکام کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی میں آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔ ابھی تک کسی تنظیم نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔ پروفیسر، 8 طلبہ کے علاوہ 2 پولیس اہلکار اور 3 گارڈز 3 فوجی ہلاک ہوئے۔ کابل پولیس کے سربراہ عبدالرحمان رحیمی نے بتایا 35 طلبہ اور 9 پولیس اہلکاروں، لیکچرار سمیت 53 زخمی ہوئے 750 طلبہ اور سٹاف کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کوئی امریکی ہلاک نہیں ہوا۔ وزارت داخلہ کے ترجمان نے کہا مرنے والوں میں ووکیشنل سکول کے گارڈز شامل ہیں۔ بڑی یونیورسٹی پر پہلا بڑا حملہ ہے۔ صدر اشرف غنی نے اس کی مذمت کی ہے۔ صدارتی آفس سے جاری بیان میں الزام لگایا گیا حملے کا منصوبہ پاکستان میں بنا۔ پاکستان نے کابل یونیورسٹی پر حملے کی مذمت کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہے۔ افغان انٹیلی جینس نے حملے کا الزام پاکستان پر لگاتے ہوئے کہا ہے کہ امریکن یونیورسٹی پر حملے کی منصوبہ بندی ڈیورنڈ لائن کے پار ہوئی۔ رائٹرکے مطابق افغانستان کے صدارتی محل نے کہا ہے کہ ابتدائی انٹیلی جینس تحقیقات کے مطابق حملے کا منصوبہ پاکستان میں بیان کیا تھا۔ افغان صدر کی ویب سائٹ پر جاری بیان کے مطابق افغان صدر اشرف غنی کی زیر صدارت میں نیشنل سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں افغان انٹیلی جنس ایجنسی نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی (این ڈی ایس) کے حکام نے کہا کہ یونیورسٹی پر حملے کے شواہد اور مشاہدات سے معلوم ہوتا ہے کہ حملے کی منصوبہ بندی پاکستان میں کی گئی، تاہم اس حوالے سے مزید تحقیقات کی جارہی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے کی اب تک کی تحقیقات کے حوالے سے اشرف غنی نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور حملے میں ملوث دہشت گردوں کے خلاف شواہد کی روشنی میں سنجیدہ اور عملی اقدامات کا مطالبہ کیا۔بی بی سی کے مطابق افغان صدارتی محل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی یونیورسٹی کے حملہ آوروں کو ہدایات بھی پاکستان سے ملتی رہیں

login with social account

8.png

Images of Kids

Events Gallery

Currency Rate

/images/banners/muzainirate.jpg

 

As of Fri, 24 Nov 2017 02:51:03 GMT

1000 PKR = 2.867 KWD
1 KWD = 348.760 PKR

Al Muzaini Exchange Company

Go to top