صفدر ھمدانی لندن: چھ ستمبر 1965پاکستان کی ملی اور عسکری تاریخ کا وہ اہم اور یادگار دن ہے جب پاکستانی فوج اور عوام نے شانہ بشانہ وطن عزیز کے دفاع کی جنگ کامیابی سے لڑی۔

 اب اگر چہ گزشتہ ایک عشرے سے اس ضمن میں ہونے والی تحقیق اور منظر عام پر انے والے دیگر شواہد کی روشنی میں اس جنگ کا ایک مختلف پہلو اور ایک الگ رخ بھی پیش کیا جاتا ہے لیکن اسکے باوجود سچ یہی ہے کہ سیاسی اور فوجی اعلیٰ ترین سطح پر چاہے حقائق کچھ بھی ہوں اس سے انکار نہیں کہ فوج کے جوانوں نے پاکستان کے عام لوگوں نے  کس طرح ایک آواز اور ہم قدم ہو کر یہ جنگ لڑی اور لاہور کے خواب دیکھنے والے دشمن کو اسکے خوابوں کی تعمیر نہ ملنے دی

 میرے ہی جزبات کی ترجمانی جناب ساجد حیسن ملک نے ان الفاظ میں کی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ستمبر1965ءکی سترہ روزہ جنگ کو پیش آئے اگرچہ اڑتالیس سال کاعرصہ گزر چکا اور اب تو ہم نے 6 ستمبر کو یوم دفاع پاکستان بھی منانا چھوڑ دیا ہے۔ لیکن اسکے باوجود آج بھی  پاکستانیوں کو ستمبر1965ءکے ان سترہ دنوں کا ایک ایک لمحہ یاد ہے۔

 حقیقت یہ ہے کہ ستمبر1965ءکی یہ سترہ روزہ جنگ پاکستان کی بقا اور اسکے وجود کے تحفظ کیجنگ تھی جس میں ہماری مسلح افواج کے ایک ایک فرد نے جس جرات و دلیری، عزم و حوصلے، ایمان و یقین اور ایثار و قربانی کا مظاہرہ کیا اسکی نظیر ہماری قومی تاریخ میں نہیں ملتی ۔ یہ جنگ فی الواقع پوری قوم کے لئے ایک آزمائش تھی ، ایک کڑا امتحان تھاجس میں پوری قوم سرخررو ہوئی اور قوم کے اندر ایسا ولولہ ، ایثار و قربانی کا ایسا جذبہ اور اتحاد و یکجہتی کی ایسی فضا پیدا ہوئی جو نہ پہلے دیکھنے میں آئی تھی اور نہ بعد میں دیکھنے کو ملی۔

 پانچ اور چھ ستمبر1965ءکی رات کو بھارت نے واہگہ سرحد پار کر کے پاکستان پر حملہ کیا تو اسکا خیال تھا کہ وہ لاہور پر قبضہ جمانے میں کامیاب ہوجائے گا۔ بھارتی کمانڈر انچیف جنرل چوہدری نے چھ ستمبر کی شام کو جم خانہ کلب لاہور میں فتح کا جشن منانے کا اعلان کر رکھا تھا لیکن اسے منہ کی کھانی پڑی اور اسکی سپاہ23ستمبر کو جنگ بندی کے اعلان تک بی آر بی نہر کے اس کنارے سے ایک انچ بھی آگے نہ بڑھ سکی۔ جبکہ ہمارے جانباز دلیری، بہادری، جانثاری اور سرفروشی میں اپنی مثال آپ ثابت ہوئے۔

 چھ ستمبر کی صبح گیارہ بجے جب صدر مملکت فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے ریڈیو اور ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو معلوم نہیں کہ اس نے کس قوم کو للکارا ہے دس کروڑ پاکستانیوں کے سینے قرآن کے نور سے منور ہیں تو ان الفاظ میں ایک جادو تھا ، ایک ایسا اثر تھا کہ پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند دشمن کے مقابلے میں متحد ہوگئی اور اس نے ایسی یکجہتی، اتفاق و اتحاد ، عزم و حوصلے اور ایثار و قربانی کا مظاہرہ کیا کہ دشمن کے سارے خواب چکنا چور ہوگئے۔ لاہور کے محاذ پر چھ ستمبر کو رات کے اندھیرے میں اچانک اور چوری چھپے حملے کی وجہ سے دشمن کو کچھ ابتدائی کامیابی ضرور حاصل ہوئی لیکن اسکے بعد سترہ دنوں تک وہ آگے بڑھنے کی کوشش میں سرپٹختا رہا لیکن بی آر بی نہر کے اس کنارے پر متعین جنرل سرفراز کا دسواں ڈویژن اسکے راستے میں سد سکندری بن کر حائل رہا۔

 سیالکوٹ کے محاذ پر دشمن اپنے فرسٹ آرمڈ ڈویژن ”فخر ہند“ کی ٹینک رجمنٹوں کی پوری قوت کے ساتھ اس امید پر حملہ آور ہوا تھا کہ وہ گوجرانوالہ تک ہر چیز کو روندتا ہوا لاہور کے عقب میں جی ٹی روڈ پر جاپہنچے گا لیکن چونڈہ کا میدان اس کے ”فخر ہند“ ڈویژن کے شرمن ٹینکوں کا قبرستان بن گیا۔ اور اسکا آگے بڑھنے کا منصوبہ ایک ڈراﺅنے خواب کا روپ دھار گیا۔ قصور سیکٹر میں ہمارے بکتر بند دستے بھارتی سرحد کے اندر کھیم کرن کے قصبے تک جاپہنچے دشمن نے مادھو پور نہر کا پشتہ توڑ دیا جسکی وجہ سے ہمارے ٹینکوں کی پیش قدمی رک گئی ورنہ فیروز پور تک کا بھارتی علاقہ فتح کرنے سے کوئی ہمیں روک نہیں سکتا تھا۔ راجستھان کے محاذ پر بھی ہماری پیش قدمی جاری رہی اور کھوکھرا پار کے مونا باﺅ ریلوے سٹیشن تک کئی ہزار مربع میل دشمن کا علاقہ ہمارے قبضے میں آگیا۔

 ستمبر1965ءکی جنگ میں ہماری فضائیہ اور بحریہ کی کارکردگی بھی ہر لحاظ سے قابل فخر رہی۔ بھارتی فضائیہ کے جیٹ ، مسٹیئر‘ ہنٹر لڑاکا اور کینبرا بمبار طیارے شروع کے ایک دو دن پاکستان کی فضاﺅں میں بڑھ چڑھ کر حملہ آور ہوئے لیکن سات ستمبر کی صبح سرگودھا کے ہوائی اڈے پر حملہ آور بھارتی طیاروں کو سکوارڈن لیڈر ایم ایم عالم نے اپنے سیبر طیارے کی مشین گنوں کا نشانہ بنایا اور چند سیکنڈ کے وقفے میں پانچ بھارتی حملہ آور طیاروں کو مار گرایا تو پھر بھارتی طیاروں کو دن کی روشنی میں پاکستانی اڈوں کا ر خ کرنے کی جرا¿ت نہ ہوسکی بھارتی فضائیہ کے اہم مراکز پٹھان کوٹ، انبالہ، جام نگر، آدم پوراور ہلواڑہ ہمارے ایف86سیبر، ایف104سٹار فائٹر اور بی 57بمبار طیاروں کا خاص طور پر نشانہ تھے اور ریڈیو پاکستان کے سنئیر نیوز ریڈر شکیل احمد مرحوم جنکا خبریں پڑھنے کا ایک خاص انداز تھا اپنے مخصوص لہجے اور بلند آواز میں خبروں میں جب یہ بتاتے کہ ہمارے شاہینوں نے دشمن کے ہوائی اڈوں ہلواڑہ، آدم پور اور جام نگر پر ٹھیک ٹھیک نشانے لگائے ہیں تو ریڈیو کے گرد بیٹھے خبریں سننے والوں کی زبانوں پر بے ساختہ اللہ اکبر کے نعرے بلند ہوجایا کرتے تھے۔

 بھارتی بحریہ اگرچہ ہماری بحریہ کے مقابلے میں کئی گنا بڑی تھی لیکن پوری جنگ ستمبر کے دوران اسکے تباہ کن لڑاکا بحری جہاز ہماری واحد آبدوز ”غازی“ کے ڈر سے اپنی گودیوں میں دبکے رہے اور گجرات کاٹھیا واڑہ کے ساحل پرہندﺅو ںکے قدیم اور تاریخی مندر”سومنات“ کے قریب واقع بھارتی بحری اڈہ ”دوارکا“ ہماری بحریہ کا نشانہ بنا اور اسکی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔

 جنگ ستمبر کے یہ چیدہ چیدہ واقعات ایسے ہیں جن پر ہم بجا طور پر فخر کرسکتے ہیں۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ بھارت جسکی فوجی طاقت اور دیگر وسائل ہمارے مقابلے میں کئی گنا زیادہ تھے جسے اس وقت کی سپر پاور سویت یونین (روس) کی پس پردہ اور کھلم کھلا حمایت حاصل تھی اور جسے 1962ءکی نیفا آسام میں بھارت چین جنگ کے بعد امریکہ ، برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک فراخدلی سے ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کی ترسیل جاری رکھے ہوئے تھے اور امریکہ نے پاکستان کو جسکا انحصار ہی امریکی ہتھیاروں اور جنگی سازوسامان پر تھا ہر طرح کے اسلحے اور فالتو پرزوں کی سپلائی روک دی تھی ان سب باتوں کے باوجود بھارت ہمارے مقابلے میں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکا تھا۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ ہم اگر اس جنگ میں کوئی بڑی فتح حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے تو بھارت ہم سے کہیں بڑھ کر ناکام رہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

واہگہ گاﺅں کے رہائشی معروف شاعر سماجی رہنما نواب ناظم میو نے6 ستمبر 1965ءپاک بھارت جنگ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا” اس وقت میں تقریباً 5 سال کی عمرکے قریب تھا۔ جب بھارت نے واہگہ بارڈر اور باٹاپور سیکٹر کی جانب پیش قدمی کی اور توپوں‘ ٹینکوں اور ٹڈی دل لشکرکے ساتھ حملہ کیا ۔ لاہور کا یہ سرحدی مشرقی علاقہ جو آج واہگہ نہالہ نروڑ ڈیال‘ جلو موڑ ،باٹاپور بھین‘ بھانو چک‘ ساہنکے‘ پڈھانہ اور بڈیارہ برکی پر مشتمل ہے ایک خوفناک منظر پیش کر رہا تھا۔ سرحدی علاقہ کے عوام جن میں میرے خاندان اور گاﺅں کے لوگ تھے۔ انہیں یہ یقین نہیں آ رہا تھا کہ بھارت نے واہگہ باٹاپور کا محاذ کھول دیا ہے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے جو کچھ دیکھا بڑا ہی دردناک اور خوفناک تھا۔

 گولہ بارود اور گولیوں کی ایسی بارش میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہ دیکھی۔ سر کے اوپرسے گولے اور گولیاں گزر رہی تھیں اور سارے علاقے میں بھارتی فوج اِدھر اُدھر کھیتوں میں لاہور کی جانب پیش قدمی کر رہی تھی بھارتی فوج کا ٹارگٹ پاکستانی عوام نہیں تھے بلکہ وہ صرف اور صرف لاہور پر قبضہ کرنے کے لئے کوشاں تھے۔ 6 ستمبر 1965ءصبح کے وقت میری ساری فیملی کے افراد ایک گھر میں جمع ہوئے اور مشورہ کیا کہ اب گاﺅں سے نکلنے میں ہی بہتری ہے کیونکہ بی آر بی نہر تک 4 میل کے علاقے پر بھارتی فوج اپنا قبضہ جما چکی تھی۔ لاہور کے مشرقی سرحدی علاقہ کے عوام کے ساتھ زیادتی بھارتی فوجیوں نے نہیں کی بلکہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی ہماری حکومت نے وقت سے قبل علاقے کو خالی نہیں کرایا جب حکومت کو علم تھا کہ بھارت اپنی فوج سرحد پر لے آیا ہے اور اس کا حملہ کرنے کا امکان سامنے تھا۔ ایسے حالات میں سرحدی عوام کو مطلع کیا جاتا ہے تاکہ جانی مالی نقصان نہ ہوتا۔

 میرے گاﺅں والوں نے صرف زیور نقدی اور ایک دو سوٹ لئے اور مہاجر ہو کر اپنے ہرے بھرے کھیتوں اور ہنستے بستے گھروں کوچھوڑ کر بی آر بی کی جانب رواں دواں ہو گئے۔ میں اس وقت بچہ تھا مجھے یاد ہے کہ میرے جسم پر قمیض بھی نہیں تھی۔ ننگے بدن اور ننگے پاﺅں میری والدہ (کلو بی بی) نے میری انگلی پکڑی اور دوسرے بہن بھائی و دیگر عزیز و اقارب کے ساتھ محفوظ مقام کی طرف چل پڑے تھے۔ تمام مویشی بھی گاﺅں میں رہ گئے اور جن لوگوں نے اپنے مویشی ساتھ لئے وہ راستہ میں گولیوں اور بموں کے دھماکوں سے اِدھر اُدھر بھاگ گئے۔ مےں مویشیوں کے درمیان میں پھنس گیا۔ میری والدہ نے مجھے بھاگ کر بچایا۔ ہمارے ادھر گرد بھارتی فوجی کے ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں تھیں۔ ہم ان حالات میں بی آر بی نہر کھارا پل پر پہنچ گئے اور نہر عبور کر لی۔ بی آر بی نہر کھارا پل بہت تنگ تھا۔ بھیڑ بھاڑ میں میرے سامنے کئی مویشی اور گدھا گاڑیاں نہر میں گر گئیں۔ نہر پار کرنے کے بعد دیکھا کہ لاہور کی جانب سے رضاکار اور نوجوان اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہوئے باٹاپور کی جانب آ رہے ہیں ۔ پھر ہماری فوج کے جوان بھی آ چکے تھے۔

 میں اپنے خاندان کے ساتھ شیخوپورہ مہاجر کیمپ میں چلا گیا۔ جہاں زیادہ تعداد بنگالی بولنے والوں کی تھی۔ جو صبح مچھلیاں پکڑنے جاتے اور ہمیں بھی مچھلیاں اور چاول کھلاتے تھے۔ جب ہم لاہور کینال کے ساتھ ساتھ پیدل سفر کر رہے تھے تو لاہور کے رہائشی نہر کے پانی میں سے گزرتے ہوئے ہمیں کھانے پینے کی اشیاءپہنچا دیتے تھے۔ 6 ماہ بھارت لاہور کے 4 میل کے علاقے پر قابض رہا۔

6 ماہ کے بعد گاﺅں میں واپس آئے تو گاﺅں میں نہ تو گھر تھا اور نہ ہی ہماری فصلیں۔ واہگہ گاﺅں کے قریب ہماری کماد کی فصل تھی۔ دیکھا توسارا کماد جلا ہوا تھا۔ دوران جنگ بھارتی فوج نے فصلوں کو آگ لگا دی تھی۔ ہمارے والدین نے بڑی محنت مشقت سے گھر دوبارہ کچی اینٹوں سے تعمیر کئے۔ مجھے یاد ہے کہ 1965ءکی جنگ کے بعد تقریباً کئی سال تک گاﺅں کے لوگ کھیتوں، جوہڑوں، میدانوں اور کنوﺅں سے لوہے کے ٹکڑے اکٹھے کرتے رہے۔ اس وقت کوئی کاروبار نہیں تھا۔ غریب لوگ لوہا بیچ کر گزارہ کرتے تھے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 لاہور ریڈیو نے جنگ ستمبر کے دوران  اگلے محاذ کا کردار ادا کیا۔ ہر شعبے خاص طور پر اناؤنسمنٹ اور موسیقی کے شعبے نے وہ کام کیا جو سنہری تاریخ کا حصہ ہے۔ افسوس کہ ریڈیو پاکستان نے حسب عادت ان تاریخی ایام کی بھی  کوئی تاریخ مرتب نہیں کی اور نہ ہی سنٹرل پروڈکشن آرکائیو میں اس سے متعلق کوئی اہم تاریخی مواد موجود ہے۔ کسی نے کوشش ہی نہیں کی کہ ایسے تاریخی کام کرنے والوں سے کم ازکم انٹرویو کر کے ہی تاریخی لمحات کو محفوظ کر لیا جاتا۔ موسیقی کے شعبے میں پروڈیوسر کےطور پر اہم نام اعظم خان اور تصدق علی جانی کے ہیں جبکہ قومی نغموں کی سب سے زیادہ دھنیں کالے خان نے بنائیں۔

 صوفی تبسم سمیت کتنے ہی اہل قلم نے لاہور ریڈیو کے کمروں میں بیٹھ کر لمحوں میں تاریخی ملی نغمے لکھے اور گھنٹوں میں انکو ریکارڈ کر کے نشر کر دیا گیا۔

 اناؤنسمنٹ اور لاہور کی خبروں کے ضمن میں لاہور ریڈیو کے شعبہ خبر کی خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں۔ مجھے وہ دن نہیں بھولتا جب لاہور میں بھارتی چھاتہ برادر فوج اتارے جانے کا اعلان ہوا اور میرے والد مصطفیٰ علی ھمدانی نے لاہور کے عوام کوان الفاظ میں خبردار کیا۔۔۔۔۔دشمن نے اپنی چھاتہ فوج لاہور میں اتارنے کا اعلان کیا ہے ۔لاہور کے شہری ڈنڈوں،لاٹھیوں اور جو بھی چیز ہاتھ میں آئے اسکے ساتھ انکا پیچھا کریں اور دشمن کو لاہور کی پاک سرزمین پر قدم نہ رکھنے دیں۔۔۔۔۔۔ یہ الفاظ مرحوم کی غیر مطبوعہ کتاب ۔۔ہم سفر۔۔۔ میں موجود ہیں۔ ان دنوں  لاہور ریڈیو کے اسٹیشن ڈائریکٹر شمس الدین بٹ صاحب تھے

جنگِ ستمبر کے دوران کئی جنگی ترانے بنائے گئے جو قوم کی رگوں میں خون بن کر دوڑتے تھے۔ پاکستانی قوم ان جنگی ترانوں کو کبھی نہیں بھولی اور سرحدوں کے باہر یا اندر جب بھی قوم پر کوئی امتحان کا وقت آیا، یہ ترانے ایک بار پھر پاکستان کے گلی کوچوں میں گونجنے لگے۔ دلوں کو گرما دینے والے ایسے ہی کچھ ترانوں میں سے

اے مرد مجاہد جاگ ذرا

اے دشمنِ دیں تو نے کس قوم کو للکارا

 اپنی جاں نذر کروں

ایہہ پتر ہٹاں تے

 جاگ اٹھا ہے سارا وطن

 اے راہ حق کے شہیدو شامل ہیں۔

 

چھ ستمبر 1965ء کو جب بھارت نے پاکستان پر جارحیت کی تو دھرتی کے سپاہی اپنی مقدس سرزمین کی حفاظت کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دی۔ صدر ایوب کے اعلان پر پوری قوم ملک کی حفاظت کے لیے کھڑی ہو گئی۔ پاک فوج کے سپاہیوں کے پیچھے پوری قوم کھڑی تھی جو گھر کی چھوٹی چھوٹی چیز لے کر اپنے محافظوں کی نذر کرنے نکل آئی تھی۔ ایسے میں شاعروں، موسیقاروں اور گلوکاروں کے خون نے بھی جوش مارا اور وہ ترانے اور گیت بنائے گئے جو پوری قوم کی آواز بن گئے۔ بعض گیت اور ترانے ایسے بھی تھے جو جنگ کے بعد بھی پاکستانیوں کا خون گرماتے رہے۔

 

جب ایک جرنیل نے اپنے ہی ملک پر غاصبانہ قبضہ کیا تو ایک جنگی گیت وکلاء تحریک کا نشان بنا۔ آج پاک فوج کو سرحدوں کے علاوہ ملکی سرحدوں کے اندر بھی ایک خطرناک دشمن کا سامنا ہے۔ اس جنگ میں شہید ہونے والے پاکستانی فوجیوں کی

تعداد تینوں جنگوں سے زیادہ ہے۔ آج پاکستانی فوج عوام کے بنائے ہوئے آئین اور جمہوریت کی محافظ ہے اور پاکستانی عوام بھی اس کی پشت پر کھڑے ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ عوام کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر چلنے والی فوج کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔

 

login with social account

9.png

Images of Kids

Events Gallery

Currency Rate

/images/banners/muzainirate.jpg

 

As of Sat, 18 Nov 2017 09:22:47 GMT

1000 PKR = 2.872 KWD
1 KWD = 348.238 PKR

Al Muzaini Exchange Company

Go to top