Science & Technology

ایپل رواں سال کی چوتھی سہ ماہی میں اپنے نئے آپریٹنگ سسٹم آئی او ایس 14 کو آئی فون کے لیے متعارف کرائے گی، جس میں صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کے لیے متعدد نئے فیچرز کا اضافہ کیا گیا ہے۔

آئی او ایس 14 اور آئی پیڈ او ایس 14 کے نئے فیچرز میں سے ایک صارفین کو اس وقت خبردار کرنا ہے جب کوئی ایپ کلپ بورڈ تک رسائی کی کوشش کرے گی، تاکہ لوگوں کو آگاہ کیا جاسکے کہ کس طرح کی ایپس ان کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرسکتی ہیں۔

ایپل انسائیڈرز کی رپورٹ کے مطابق اس فیچر کو متعارف کرانے کا فیصلہ ممکنہ طور پر اس وقت کیا گیا جب رواں سال مارچ میں یہ انکشاف سامنے آیا تھا کہ ٹک ٹاک سمیت متعدد ایپس آئی او ایس کلپ بورڈ کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرتی ہیں۔

جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ یہ فیچر مارچ میں سامنے آنے والی رپورٹ کے بعد ڈیزائن کیا گیا، جس کے بارے میں ٹک ٹاک نے بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ ایک اسپام کم کرنے والا فیچر ہے جس کو ایپ کے اس اپ ڈیٹ ورژن سے نکال دیا جائے گا جسے وہ ایپ اسٹور میں منظوری کے لیے پیش کرنے والی ہے۔

مارچ کی اس رپورٹ میں ٹک ٹاک سب سے زیادہ مقبول ایپ تھی مگر مجموعی طور پر 54 ایپس تاحال کلپ بورڈ سے ایپل کے صارفین کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کررہی ہیں۔

ان میں متعدد معروف نام شامل ہیں جیسے سوشل میڈیا ایپس ویبو اور زوسک، نیوز ایپس این پی آر اور فاکس نیوز، گیمز جیسے فروٹ ننجا اور بی جی ویلڈ کے 3 مختلف ورژنز کے ساتھ ساتھ ایکو ویدر اور ہوٹلز ڈاٹ کام وغیرہ۔

ان ایپس کی تعداد 56 تھی جن میں سے صرف 2 10٪ ہیپیر: میڈی ایشن اور ہوٹل ٹونائٹ نے ڈیٹا تک رسائی ختم کی ہے جبکہ ٹک ٹاک نے اس وقت اقدامات کا وعدہ کیا تھا، مگر تاحال کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی۔

کلپ بورڈ کا بنیادی مقصد صارفین کو ایپس ایسے ڈیٹا کے ساتھ فراہم کرنا ہے جس کا انہیں علم ہو، مگر اسے حقیقی معنوں میں کبھی استعمال نہیں کیا گیا۔

ایپس کے پاس صلاحیت ہے کہ وہ کسی کلپ بورڈ میں ڈیٹا کو کھینچ سکیں، یعنی یہ امکانات موجود ہوتے ہیں وہ صارف کی جاسوسی کرسکتی ہیں۔

ایپل کے سسٹم میں یونیورسل کلپ بورڈ کے اضافے کے بعد ایسی ایپس کی جانب سے ڈیٹا اکٹھا کرنے کا خطرہ بھی بڑھ گیا تھا۔

انٹرنیٹ سیکیورٹی کے لیے کام کرنے والی کمپنی مائیسک کے مطابق 'یہ بہت، بہت خطرناک ہے، یہ ایپس کلپ بورڈز کو پڑھتی ہیں اور اس کی کوئی وجہ بھی نہیں، ایک ایسی ایپ جس میں کوئی ٹیکسٹ فیلڈ نہ ہو یعنی جس میں کچھ لکھنا ممکن نہ ہو، اس کا کلپ بورڈ ٹیکسٹ پڑھنے کا کوئی جواز نہیں'۔

کمپنی کے مطابق محققین کے کام کی وجہ ے آئی او ایس 14 میں کلپ بورڈ نوٹیفکیشن فیچر متعارف کرایا گیا۔

کولیسٹرول کی سطح میں کمی لانے والی دوا اسٹیٹنز (Statins) نوول کورونا وائرس کے علاج میں مدد دے کر اموات اور میڈیکل وینٹی لیشن کی شرح کو کم کرسکتی ہے۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

 

یہ دوا عموماً کولیسٹرول کی سطح میں کمی لانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے جبکہ جانوروں میں پھیپھڑوں کی انجری کو بڑھنے سے روکنے، مدافعتی ردعمل بہتر اور ورم کم کرتی ہے، یہ تینوں مسائل کووڈ 19 کے مریضوں میں عام ہوتے ہیں۔

طبی جریدے سیل میٹابولزم میں شائع تحقیق چینی ماہرین کی تھی، جس میں لگ بھگ 14 ہزار مریضوں میں اسٹیٹنز کے استعمال کی جانچ پڑتال کی گئی۔

محققین نے دریافت کیا کہ اس دوا کو استعمال کرنے والے افراد میں اموات کی شرح 45 فیصد تک کم ہوگئی۔

اسی طرح محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ اسٹیٹنز کو بلڈ پریشر میں کمی لانے والی ادویات کے ساتھ استعمال کرانے سے اموات کا خطرہ نہیں بڑھتا۔

ووہان یونیورسٹی کی اس تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا تھا کہ نتائج میں کووڈ 19 کے ہسپتال میں زیرعلاج مریضوں میں اس دوا کے استعمال کو محفوظ اور فائدہ مند قرار دیا گیا ہے۔

اگرچہ تحقیق میں ٹھوس انداز سے اموات کی شرح میں کمی کو ثابت نہیں کی گیا مگر ممکنہ علاج کی توقع ضرور فراہم کی ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اگرچہ ڈیٹا سے اس دوا کے محفوظ ہونے کے شواہد ملے ہیں، مگر مزید ٹرائلز میں کووڈ 19 کے حوالے سے اس کی افادیت کو جانچا جانا چاہیے۔

ابھی تک کورونا وائر کے لیے کوئی ویکسین یا طریقہ علاج موجود نہیں، مگر اسٹیٹنز اور ریمیڈیسیور کے ٹرائلز کے نتائج اب تک مثبت رہے ہیں۔

اس سے قبل رواں ہفتے امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں ذیابیطس مریضوں کے لیے دستیاب دوا گلوکوزفیج یا میٹفورمن کو بھی کورونا وائرس کے بدترین اثرات کی روک تھام میں مددگار قرار دیا گیا تھا۔

مینیسوٹا یونیورسٹی کی پری پرنٹ تحقیق (ایسی تحقیق جو کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئی ہو) میں دریافت کیا گیا کہ ہر جگہ آسانی سے دستیاب یہ دوا کورونا وائرس کے اثرات کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

یہ کورونا وائرس کے خطرے کے عناصر پر ہونے والی چند بڑی مشاہداتی اسٹڈیز میں سے ایک تحقیق ہے، جس میں دریافت کیا گیا کہ موٹاپا اور ذیابیطس کووڈ 19 سے اموات کا باعث بننے والے 2 بڑے خطرات ہیں۔

مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دریافت کیا گیا کہ گلوکوفیج سے کورونا وائرس سے موت کا خطرہ 21 سے 24 فیصد تک ان مریضوں میں کم کیا جاسکتا ہے جو پہلے ہی اس دوا کو ذیابیطس اور بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔

محققین نے بتایا کہ لوگوں کو اس دوا کو وائرس کا علاج نہیں سمجھنا چاہیے، مگر نتائج سے کووڈ 19 جیسے وبائی امراض کے لیے ویکسین ہٹ کر قابو پانے کے نئے راستے کھل سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ دوا ممکنہ طور پر کووڈ 19 کے مریضوں کے لیے مددگار ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ یہ ورم کو کم کرنے کے ساتھ جسمانی مدافعتی نظام کے ردعمل کو کم کرتی ہے۔

کورونا وائرس کے کچھ کیسز میں بہت زیادہ متحرک مدافعتی نظام موت کی وجہ بن جاتا ہے۔

اس نئی تحقیق میں 6 ہزار سے زائد ایسے افراد کو دیکھا گیا جو ذیابیطس یا موٹاپے کے شکار رھے اور کووڈ 19 کے نتیجے میں ہسپتال میں زیرعلاج رہے۔

محققین نے دریافت کیا کہ ان خواتین میں اس وبائی بیماری سے اموات کم ہوئیں جن کو ذیابیطس کی دوا تجویز کی گئی تھی۔

 

خطرے کے دیگر عناصر کو مدنظر رکھ اندازہ لگایا گیا کہ اس دوا کے استعمال سے کووڈ 19 سے موت کا خطرہ 21 سے 24 فیصد تک کم ہوسکتا ہے، مگر یہ تعلق مردوں میں دیکھنے میں نہیں آیا۔

محققین کا کہنا تھا کہ ہم پہلے سے جانتے تھے کہ یہ دوا مردوں اور خواتین پر مختلف انداز سے اثرات مرتب کرتی ہے، ذیابیطس کی روک تھام کی ایک تحقیق میں ہم نے دریافت کیا تھا ککہ اس سے سی آر پی (ورم کا باعث بننے والا ایک پروٹین) کی سطح مردوں کے مقابلے میں خواتین میں دوگنا زیادہ کم ہوتی ہے۔

اس دوا سے کووڈ 19 کے مریضوں میں ورم کا باعث بننے والے پروٹین ٹی این ایف ایلفا کی سطح بھی کم ہوتی ہے، جو حالت بدتر بناتا ہے، خصوصاً مردوں کے مقابلے میں خواتین میں اس کی سطح زیادہ کم ہوتی ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ یہ دوا محفوظ، سستی اور آسانی سے دستیاب ہے اور اگر بڑے ٹرائلز میں اس کی افادیت ثابت ہوئی تو یہ کوود 19 کا ایک حقیقی علاج ثابت ہوسکے گی۔

It all started with the dream of growing a rose on Mars.

That vision, Elon Musk’s vision, morphed into a shake-up of the old space industry, and a fleet of new private rockets. Now, those rockets will launch Nasa astronauts from Florida to the International Space Station — the first time a for-profit company will carry astronauts into the cosmos.

It’s a milestone in the effort to commercialise space. But for Musk’s company, SpaceX, it’s also the latest milestone in a wild ride that began with epic failures and the threat of bankruptcy.

If the company’s eccentric founder and CEO has his way, this is just the beginning: He’s planning to build a city on the red planet, and live there.

“What I really want to achieve here is to make Mars seem possible, make it seem as though it’s something that we can do in our lifetimes and that you can go,” Musk told a cheering congress of space professionals in Mexico in 2016.

Musk “is a revolutionary change” in the space world, says Harvard University astrophysicist Jonathan McDowell, whose Jonathan’s Space Report has tracked launches and failures for decades.

Read: Elon Musk's SpaceX sends world's most powerful rocket on first commercial flight

Ex-astronaut and former Commercial Spaceflight Federation chief Michael Lopez-Alegria says, “I think history will look back at him like a da Vinci figure.”

Musk has become best known for Tesla, his audacious effort to build an electric vehicle company. But SpaceX predates it.

At 30, Musk was already wildly rich from selling his internet financial company PayPal and its predecessor Zip2. He arranged a series of lunches in Silicon Valley in 2001 with G. Scott Hubbard, who had been Nasa’s Mars czar and was then running the agency’s Ames Research Center.

Musk wanted to somehow grow a rose on the red planet, show it to the world and inspire school children, recalls Hubbard.

“His real focus was having life on Mars,” says Hubbard, a Stanford University professor who now chairs SpaceX’s crew safety advisory panel.

The big problem, Hubbard told him, was building a rocket affordable enough to go to Mars. Less than a year later Space Exploration Technologies, called SpaceX, was born.

In this Tuesday, Feb 6, 2018 file photo, a Falcon 9 SpaceX heavy rocket lifts off from pad 39A at the Kennedy Space Center in Cape Canaveral, US. — AP
In this Tuesday, Feb 6, 2018 file photo, a Falcon 9 SpaceX heavy rocket lifts off from pad 39A at the Kennedy Space Center in Cape Canaveral, US. — AP

 

There are many space companies and like all of them, SpaceX is designed for profit. But what’s different is that behind that profit motive is a goal, which is simply to “get Elon to Mars”, McDowell says. “By having that longer-term vision, that’s pushed them to be more ambitious and really changed things.”

Everyone at SpaceX, from senior vice presidents to the barista who offers its in-house cappuccinos and FroYo, “will tell you they are working to make humans multi-planetary”, says former SpaceX Director of Space Operations Garrett Reisman, an ex-astronaut now at the University of Southern California.

Musk founded the company just before Nasa ramped up the notion of commercial space.

Traditionally, private firms built things or provided services for Nasa, which remained the boss and owned the equipment. The idea of bigger roles for private companies has been around for more than 50 years, but the market and technology weren’t yet right.

Nasa’s two deadly space shuttle accidents — Challenger in 1986 and Columbia in 2003 — were pivotal, says W. Henry Lambright, a professor of public policy at Syracuse University.

When Columbia disintegrated, Nasa had to contemplate a post-space shuttle world. That’s where private companies came in, Lambright says.

After Columbia, the agency focused on returning astronauts to the moon, but still had to get cargo and astronauts to the space station, says Sean O’Keefe, who was Nasa’s administrator at the time. A 2005 pilot project helped private companies develop ships to bring cargo to the station.

SpaceX got some of that initial funding. The company’s first three launches failed. The company could have just as easily failed too, but Nasa stuck by SpaceX and it started to pay off, Lambright says.

“You can’t explain SpaceX without really understanding how Nasa really kind of nurtured it in the early days,” Lambright says. “In a way, SpaceX is kind of a child of Nasa.”

Since 2010, Nasa has spent $6 billion to help private companies get people into orbit, with SpaceX and Boeing the biggest recipients, says Phil McAlister, Nasa’s commercial spaceflight director.

Nasa plans to spend another $2.5bn to purchase 48 astronaut seats to the space station in 12 different flights, he says. At a little more than $50 million a ride, it’s much cheaper than what Nasa has paid Russia for flights to the station.

Starting from scratch has given SpaceX an advantage over older firms and Nasa that are stuck using legacy technology and infrastructure, O’Keefe says.

And SpaceX tries to build everything itself, giving the firm more control, Reisman says. The company saves money by reusing rockets, and it has customers aside from Nasa.

The California company now has 6,000 employees. Its workers are young, highly caffeinated and put in 60- to 90-hour weeks, Hubbard and Reisman say. They also embrace risk more than their Nasa counterparts.

Decisions that can take a year at Nasa can be made in one or two meetings at SpaceX, says Reisman, who still advises the firm.

In 2010, a Falcon 9 rocket on the launch pad had a cracked nozzle extension on an engine. Normally that would mean rolling the rocket off the pad and a fix that would delay launch more than a month.

But with Nasa’s permission, SpaceX engineer Florence Li was hoisted into the rocket nozzle with a crane and harness. Then, using what were essentially garden shears, she “cut the thing, we launched the next day and it worked”, Reisman says.

Musk is SpaceX’s public and unconventional face — smoking marijuana on a popular podcast, feuding with local officials about opening his Tesla plant during the pandemic, naming his newborn child “X Æ A-12”. But insiders say aerospace industry veteran Gwynne Shotwell, the president and chief operating officer, is also key to the company’s success.

“The SpaceX way is actually a combination of Musk’s imagination and creativity and drive and Shotwell’s sound management and responsible engineering,” McDowell says.

But it all comes back to Musk’s dream. Former Nasa chief O’Keefe says Musk has his eccentricities, huge doses of self-confidence and persistence, and that last part is key: “You have the capacity to get through a setback and look ... toward where you’re trying to go.”

For Musk, it’s Mars.

بیجنگ: چین نے منگل کو کامیابی کے ساتھ ایک نیا راکٹ اور پروٹو ٹائپ اسپیس کرافٹ لانچ کیا ہے۔

ڈان اخبار مین شائع فرانسیسی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق اس مشن کے تحت چین مستقبل میں خلاء میں ایک اسپیس اسٹیشن بنائے گا، بعدازاں خلاباز چاند پر بھیجے گا۔

چین کی سرکاری خبررساں ایجنسی نے اپنے بیان میں بتایا کہ لانگ مارچ 5 بی نامی راکٹ ہینان کے جنوبی جزیرے میں وین چینگ لانچ سائٹ سے چھوڑا گیا اور 8 منٹ میں کامیابی کے ساتھ پروٹو ٹائپ اسپیس شپ اس سے الگ ہوکر اپنے ہدف کردہ مدار میں داخل ہوگیا۔

ایجنسی نے مزید بتایا کہ کارگو ریٹرن کیپسول کا ایک ٹیسٹ ورجن بھی کامیابی سے راکٹ سے علیحدہ ہوگیا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ اسپیس شپ ایک دن خلابازوں کو خلا میں داخل کرے گا اور چین کا یہ منصوبہ 2022 تک مکمل کرنے کا ارادہ ہے، جس کے بعد اس اسپیس شپ کا اگلا ہدف چاند ہے۔

مزید پڑھیں: چین سمندر سے خلا میں راکٹ بھیجنے والا تیسرا ملک بن گیا

اس اسپیس شپ میں 6 افراد کی ٹیم کی گنجائش موجود ہے۔

چین مینڈ اسپیس ایجنسی کے جی کِمنگ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ٹیسٹ فلائٹس مکمل ہونے کے بعد اس اسپیس شپ اور کیپسول کی واپسی جمعہ تک متوقع ہے۔

فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی

 

یاد رہے کہ امریکا وہ واحد ملک ہے جس نے کامیابی کے ساتھ انسانوں کو چاند پر بھیجا ہے۔

مگر چین نے ایک بڑی مہم شروع کی ہے اور اس کے ارادے چاند سے دور تک کے ہیں، چین کی طرف سے خلاء میں بھیجا جانے والا مارچ 5 بی 54 میٹر لمبا اور 849 ٹن وزنی ہے۔

البتہ بیجنگ بھی اس حوالے سے کافی سرگرم ہے اور خلا میں خلابازوں کو بھیجنے کے ساتھ مدار میں سیٹالائٹس بھی بھیجے جاچکے ہیں۔

یاد رہے کہ رواں سال مارچ اور اپریل میں چین کی جانب سے خلا میں راکٹ بھیجنے کے دو منصوبے ناکام ہوچکے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں چین نے 2020 میں اپنے مریخ مشن کو آگے بڑھانے کے لیے دنیا کا سب سے طاقت ور راکٹ لانچ کیا تھا۔

چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی پر دکھائی گئی براہ راست نشریات میں شی جیان 20 ٹیسٹ سیٹلائٹ پے لوڈ پر مشتمل بھاری طویل رینج والے 5 راکٹ کو جنوبی جزیرے ہینان میں واقع لانچ سائٹ سے رات 8 بج کر 45 منٹ پر خلا میں بھیجا گیا تھا۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شن ہوا کے مطابق ’2000 سیکنڈز کے بعد شیجیان 20 سیٹلائٹ کو اپنے پہلے سے طے شدہ مدار میں بھیجا گیا‘۔

رپورٹ کے مطابق ’راکٹ لانچ مستقبل کے خلائی مشنوں سے متعلق کلیدی ٹیکنالوجیز کی جانچ کرے گا‘۔

جولائی 2017 میں اس راکٹ کی لانچنگ کی ناکام کوشش کے بعد گزشتہ سال کی کامیابی کی وجہ سے چین کا خلائی پروگرام واپس اپنی سمت میں لوٹ آیا تھا۔

واضح رہے کہ بیجنگ نے اپنے حریف امریکا سے مقابلہ کرنے کے لیے اپنے خلائی پروگرام میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے اور خود کو ایک بڑی عالمی طاقت ظاہر کرنے کی تصدیق کی تھی۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ چین تیانگانگ اسپیس اسٹیشن کو جوڑنے کا کام رواں سال شروع کرے گا اور اس کی تکمیل 2022 تک مکمل ہوگی۔

مدار میں بنائی جانے والی اس خلائی لیبارٹری کے تین ماڈیول ہوں گے جہاں رہائش اور سائنسی تجربے کرنے کی سہولیات بھی موجود ہوگی۔

چین کا منصوبہ ہے کہ وہ آئندہ ایک دہائی کے دوران انسان کو چاند پر بھیجے گا اور چین چاند پر بیس بنانے کا منصوبہ بھی رکھتا ہے۔

چین 2019 میں دنیا کا وہ پہلا ملک بھی بنا تھا جو چاند کے تاریک حصے پر پہنچا تھا، جہاں اس نے ایک مصنوعی چاند نصب کیا تھا جو اب وہاں سے 450 میٹر دور چلا گیا ہے۔

چین کا اگلا ہدف مریخ پر تحقیق کرنا ہے اور رواں سال اس کے آغاز کا امکان ہے۔

چین کے مطابق انہوں نے پہلے ہی زمین کی تحقیق کے متعلق کچھ منصوبوں کی تحقیق کے لیے امریکا کے ساتھ تعاون قائم کر رکھا ہے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ امریکا اور چین میں خلائی تحقیق اور انسانوں کے خلا میں جاکر تحقیق کرنے کے حوالے سے بہت بڑا فرق ہے، امریکا ماضی، حال اور مستقبل قریب میں اس حوالے سے سب سے آگے ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی سوشل ویب سائٹ فیس بک نے بالآخر مواد کی نگرانی کے لیے خود مختار باڈی کی تشکیل دیتے ہوئے ’سپریم کورٹ‘ کی طرز کے ادارے کے ارکان کا اعلان کردیا۔

فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے نومبر 2018 میں اعلان کیا تھا کہ ویب سائٹ مواد کی نگرانی کے حوالے سے ایک آزاد باڈی کا قیام عمل میں لائے گی۔

مارک زکر برگ نے اعلان کیا تھا کہ ممکنہ طور پر آزاد باڈی میں دنیا بھر سے انسانی حقوق، ڈیجیٹل رائٹس کے ارکان، سیاستدان، قانون دان، ادیب اور تاریخ دانوں کو شامل کیا جائے گا اور اس باڈی کے ارکان کی تعداد 40 تک رکھی جائے گی۔

اور اب فیس بک نے 18 ماہ بعد اپنے وعدے کو پورا کرتے ہوئے 40 رکنی باڈی کا قیام عمل میں لاتے ہوئے اس کے ابتدائی 20 ارکان کے ناموں کا اعلان بھی کردیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فیس بک کے پبلک پالیسی ڈائریکٹر بیرنٹ ہارس نے ادارے کی جانب سے باڈی کا اعلان کرتے ہوئے اس کے 20 ارکان کے ناموں کا اعلان کیا اور ساتھ ہی کہا کہ باڈی ارکان کی تعداد بڑھا کر 40 تک کردی جائے گی۔

فیس بک کی جانب سے مواد کی نگرانی کے لیے تشکیل دی گئی باڈی کو سوشل ویب سائٹ کی ’سپریم کورٹ‘ کہا جا رہا ہے اور یہ باڈی عدالت کی طرح ہی کام کرے گی اور اس باڈی کے فیصلوں کو تسلیم کرنا ویب سائٹ کے لیے لازم ہوگا۔

یمن کی نوبل انعام کارکن توکل کرمانی بھی جیوری کا حصہ ہیں—فوٹو: وویمن چیئر
یمن کی نوبل انعام کارکن توکل کرمانی بھی جیوری کا حصہ ہیں—فوٹو: وویمن چیئر

 

فیس بک کی ’سپریم کورٹ‘ قوائد و ضوابط میں رہتے ہوئے آزادانہ طور پر ویب سائٹ پر شائع ہونے والے مواد کی نگرانی کرے گی اور یہ فیصلہ کرے گی کہ کس طرح کے مواد کو ویب سائٹ پر شائع کیا جائے اور کس طرح کے مواد کو روکا جائے۔

’سپریم کورٹ‘ جیسی یہ باڈی فیس بک سمیت انسٹاگرام پر مواد کو شائع کرنے کے حوالے سے بھی فیصلے کرے گی اور یہ باڈی فیس بک کو ایسی سفارشات اور فہرست فراہم کرے گی کہ کس طرح کا مواد روکا جا سکتا ہے اور کس طرح کے مواد کو روکا نہیں جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں: فیس بک کا نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن

یہ باڈی عالمی قوانین، انسانی حقوق اور ریاستی قوانین سمیت معلومات تک رسائی، اخلاقیات اور دیگر اہم مسائل کے تناظر میں یہ فیصلہ کرے گی کس طرح کے مواد کو فیس بک یا انسٹاگرام پر شائع نہیں کیا جا سکتا اور کس طرح کے مواد کو روکا نہیں جا سکتا۔

فیس بک کی ’سپریم کورٹ‘ کے ابتدائی 20 ارکان میں یمن کی انسانی حقوق کی کارکن، صحافی اور نوبل انعام یافتہ خاتون توکل کرمانی، یورپی ملک ڈینمارک کی سابق وزیر اعظم ہیلے تھارننگ سکمدت، سابق امریکی فیڈرل کورٹ کے جج مائیکل مکنول، برطانوی اخبار دی گارجین کے سابق ایڈیٹر ایلن رسبریجر اور کولمبیا کی ماہر تعلیم کیٹالینا بوتیرو سمیت دنیا کے مختلف ممالک کے 20 سیاستدان، ماہر قانون، ماہر تعلیم، ادیب، صحافی و انسانی حقوق کے علمبردار شامل ہیں۔

فیس بک کے پبلک پالیسی ڈائریکٹر بیرنٹ ہارس نے باڈی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ باڈی کے ابتدائی 20 ارکان کی آن لائن تربیت کا آغاز کردیا گیا اور جلد ہی جیوری اپنا کام شروع کردے گی۔

ڈینمارک کی سابق وزیر اعظم بھی جیوری کا حصہ ہیں—فوٹو: اے ایف پی
ڈینمارک کی سابق وزیر اعظم بھی جیوری کا حصہ ہیں—فوٹو: اے ایف پی

 

خیال کیا جا رہا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ باڈی عام افراد کی جانب سے فیس بک اور انسٹاگرام پر شائع کیے جانے والے مواد سے متعلق غور کرے گی اور یہ باڈی یہ دیکھے گی کہ عام صارفین کی جانب سے کس طرح کے مواد کو شیئر کیا جا سکتا ہے اور کس طرح کے مواد کو روکا جاسکتا ہے۔

دوسرے مرحلے میں یہ باڈی حکومتوں، ریاستوں و اداروں کے مواد پر نظر ثانی کرے گی اور پھر مذکورہ باڈی فیس بک کو اپنی سفارشات پیش کرے گی، جن پر عمل کرنا فیس بک پر لازم ہوگا۔

مزید پڑھیں: فیس بک کا سفید فام نسل پرستی کے خلاف نئی پالیسی کا اعلان

’سپریم کورٹ‘ طرز کی یہ باڈی اپنی سفارشات کو بھی عام کرنے کی پابند ہوگی اور یہ باڈی اپنی رپورٹس میں عوام کو یہ بھی بتائے گی کہ فیس بک نے باڈی کی سفارشات پر کتنا عمل کیا۔

فیس بک انتظامیہ کو مذکورہ باڈی ارکان کو برخاست کرنے کا اختیار نہیں ہوگا، چوں کہ اس باڈی ارکان کو ایک ٹرسٹ فنڈ کے تحت قائم کیے گئے ادارے کے تحت بھرتی کیا گیا ہے اور یہ باڈی مکمل طور پر خود مختار ہوگی۔

مذکورہ باڈی کے ارکان کے مطابق وہ انٹرنیٹ پولیس کا کام نہیں کریں گے بلکہ وہ فیس بک و انسٹاگرام پر مواد کی بہتری کے لیے کام کریں گے اور وہ اس ضمن میں معلومات تک رسائی اور درست معلومات کے پھیلاؤ سمیت انسانی حقوق کا بھی خیال رکھیں گے۔

یہ اپنی نوعیت کی منفرد اور پہلی باڈی ہے جو اتنے بڑے پیمانے پر خود مختار طور پر کام کرے گی، عام طور پر فیس بک، انسٹاگرام، ٹوئٹر اور اسنیپ چیٹ جیسی ایپلی کیشنز و ویب سائٹ کی محدود ٹیم مواد کی نگرانی کرنے سمیت مواد کو شائع کرنے یا نہ کرنے سے متعلق فیصلہ کرتی ہے اور ایسے عمل پر ان ویب سائٹس کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔

مارک زکربرگ نے نومبر 2018 میں جیوری بنانے کا اعلان کیا تھا—فوٹو: اے ایف پی
مارک زکربرگ نے نومبر 2018 میں جیوری بنانے کا اعلان کیا تھا—فوٹو: اے ایف پی

In this file photo youths act in front of a mobile phone camera while making a TikTok video on the terrace of their residence in Hyderabad. – AFP

This is TikTok’s time. The social video platform which was already a favorite of teens is increasingly being used by adults looking for ways to pass the time during coronavirus lockdowns. Users post short videos — no longer than 60 seconds but often as short as 15 — to showcase their bite-size dance skills or share relatable experiences with a humorous twist. The application, owned by Chinese tech company ByteDance, saw 65 million worldwide downloads in March, according to analytics site SensorTower.

In addition to the existing 800 million reported in January by DataReportal, the app is nearing a billion users — though TikTok itself does not publish such data. And though teens have been posting on the platform for months, it seems adults with more free time — as much of the world is encouraged to stay at home to stop the spread of the novel coronavirus — are finally catching on.

Cecile, stuck at home in Paris with her six- and three-year-old children, was intrigued when a friend sent her a video. Soon, she had downloaded the app and was posting clips herself. “I said to myself: ‘Well, this is something funny I could do with the boys to pass the time, if only for fifteen minutes,'” she said. “When I say, ‘Come on, we’re making a video,’ they’re ready to go. It makes them laugh.”

Celebrities have joined the fun too, from Jennifer Lopez to Mariah Carey — even 82-year-old Jane Fonda. Social media use is up across the board as movement is restricted around the world, but TikTok — already having a moment before the pandemic — is doing better than others. Idyllic vacation views and perfectly framed artistic shots — long the markers of the Instagram aesthetic — are currently out of reach for most. But the typical TikTok post does not require a beautiful background, explained Thibault Le Ouay, founder of Pentos, a company that helps brands with their marketing strategy on the platform.

“On TikTok, you do a dance in your own house,” he said, pointing to 15-year-old Charli D’Amelio, one of the app’s biggest stars with 46 million subscribers. “She is at home in leggings. It’s not a video of a beach paradise,” he said. “It’s still something you can do at home.” Plus, TikTok has levity baked into its DNA. Many videos on the platform — a descendant of the website Musical.ly — are amateur performances of short choreographed dances and lip syncs to song clips, repeated and riffed on over and over.

“It’s a very interesting position to be in for TikTok right now, because the videos are generally pretty light, humorous, fun and easy,” said Debra Aho Williamson, principal analyst for market research company eMarketer. “And with all of the negative news that people are hearing on a daily basis from other media, TikTok is something different, and I think that people need that right now.”

#happyathome

The site has also taken on the role of promoting stay-at-home content in an effort to help fight the virus, a TikTok spokeswoman said. The hashtag #happyathome has seen more than 7.9 billion views. “We’re committed to doing our part to help the broader community get through this difficult time,” she said. The app also has a page with information about COVID-19, the disease caused by the new coronavirus, with contributions from the World Health Organization (WHO) that “dispel some of the myths” around the illness, she said. Multiple brands have used civic responsibility as an entry point into TikTok, where advertising has been scarce until recently.

US personal hygiene and cleaning product giant Proctor & Gamble has worked with Charli D’Amelio for a campaign about social distancing, for example. Brands’ marketing ability in general — including the opportunity to monetize content on TikTok — is limited by the pandemic, experts say. But they are still interested, according to Williamson. “The problem is for some companies (that) TikTok is an experiment for advertising,” she said. “And if they are being forced to cut their ad budgets — which many companies are right now — things that are experimental often times are the easiest to cut.”

And the app’s Chinese origins could be a concern for some brands in the US that are worried about data usage, she said. eMarketer, which already predicted TikTok will grow this year to 45 million US users, up from 37 million, has not changed its forecast based on impact from coronavirus. “The question I have for TikTok and all of the social media platforms that are seeing increases in engagement now is whether it will continue once things get back to normal, once older adults are back working and they have other things going on,” Williamson said. “It’s too soon to tell right now.” – AFP

Alphabet (Google) subsidiary Wing has become the first company in the United States to deliver packages by drone.

In Christiansburg, the small Virginia town chosen as Wing's test location, the 22,000 residents can order products normally shipped by FedEx, medicine from Walgreens and a selection of candy from a local business — all of which will arrive via drone.

Wing, which already operates in two Australian cities as well as Helsinki, announced in a statement that the first drone-powered deliveries had taken place Friday afternoon in Christiansburg, “paving the way for the most advanced drone delivery service in the nation”.

One family used the Wing app to order Tylenol, cough drops, Vitamin C tablets, bottled water and tissues, the statement said. An older resident ordered a birthday present for his wife.

Although the majority of the delivery was done by a FedEx truck, the last mile was completed by drone.

The yellow and white drones are loaded with packages at a local centre of operations called the “Nest,” where Wing employees pack them with up to three pounds (1.3 kilogrammes) of goods, deliverable within a six mile (10 kilometre) radius.

Once they have arrived at their destination, the drones don't land. Instead, they hover above the house and lower the package with a cable.

Other companies are working to launch similar services, most notably Amazon, UPS and Uber Eats. But Wing was the first to obtain a license from the Federal Aviation Administration (FAA), authorising company pilots to fly multiple drones at the same time.

7.png

login with social account

 
 

Images of Kids

Events Gallery

Online Health Insurance System

 Sate of Kuwait

Go to top