امریکی محققین کا کہنا ہے کہ دل کی دھڑکن سے حاصل ہونے والی توانائی کی مدد سے اتنی بجلی پیدا کی جا سکتی ہے جو ’پیس میکر‘ چلانے کے لیے کافی ہو۔

پیس میکر بیٹری سے چلنے والا ایک ایسا آلہ ہے جو دل کی دھڑکن اور نبض کو مستحکم رکھنے کا کام کرتا ہے تاہم فی الحال اس کی بیٹریاں تبدیل کرنے کے لیے متواتر آپریشنز درکار ہوتے ہیں۔

اب مشی گن یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک ایسے آلے کی تیاری کی تجویز دی ہے جو دل کی دھڑکن سے چارج ہو کر پیس میکر کو توانائی فراہم کرے۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ اس آلے پر کلینکل تجربات کی ضرورت ہے تاکہ یہ یقین ہو سکے کہ یہ مریضوں کے لیے محفوظ ہے۔

اس آلے کے ابتدائی تجربات میں دل کی دھڑکنوں کی مختلف رفتار سے اتنی بجلی پیدا کی گئی جو پیس میکر چلانے کے لیے کافی تھی۔

اب محققین اس آلے کا تجربہ ایک اصل دل پر کرنا چاہتے ہیں اور کامیابی کی صورت میں اسے کاروباری سطح پر تیار کیا جا سکتا ہے۔

اس تحقیق میں شامل ڈاکٹر امین کرامی نے امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے اجلاس میں بتایا ہے کہ پیس میکر کی بیٹری ہر سات سال بعد تبدیل کرنا پڑتی ہے۔ ’بہت سے مریض بچے ہوتے ہیں جو پیس میکر کے ساتھ طویل عرصے تک زندہ رہتے ہیں۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اگر اس نئی ٹیکنالوجی پر عمل ہو تو وہ بچے کتنے آپریشنز سے بچ سکتے ہیں‘۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے پروفیسر پیٹر ویزبرگ کا کہنا ہے کہ ’نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے اب مریضوں کو پیس میکر کی بیٹری زیادہ نہیں بدلنی پڑتی اور یہ آلہ اسی سمت میں ایک اور قدم بن سکتا ہے‘۔

ان کے مطابق ’اگر محققین ٹیکنالوجی کو بہتر بنا سکیں اور کلینکل تجربات مثبت ہوں تو وہ بیٹری کی تبدیلیوں کی ضرورت کو مزید کم کر دےگا۔