برطانیہ میں گھریلو تشدد کی تعریف کو وسیع کر کے اس میں نفسیاتی طور پر ڈرانے دھمکانے کو بھی شامل کیاگیا ہے۔ اس نئی تعریف کا اطلاق اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچوں پر بھی لاگو ہوگا۔

اس نئی تعریف کے مطابق اپنے شریک کے گھر سے باہر نکلنے پر پابندی لگانے یا فون پر رابطہ نہ کرنے دینے پر بھی قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

امید ہے کہ گھریلو تشدد کی تعریف کے دائرہ کو وسیع کرنے سے لوگوں میں اس کے بارے میں بیداری پیدا ہوگی اور یہ بھی معلوم ہوگا کہ کون گھریلو تشدد کا شکار ہے۔

برطانوی دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس کے بعد گھریلو تشدد کے زیادہ واقعات سامنے آئیں گے۔

دفترِ خارجہ کا یہ بھی خیال ہے کہ زیادہ تر نوجوان آگے آئیں اور اپنے ساتھ ہونے والے گھریلو تشدد کے بارے میں مدد مانگیں یا پھر کسی کو اس بارے میں بتائیں۔

یہ تبدیلیاں 2013 مارچ سے نافذ ہوں گی جو مقامی حکام، پولیس اور رضاکار تنظیموں کی اپیل پر کی گئی ہیں۔

گھریلو تشدد کی شکار ایک خاتون نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اگر یہ رہنماء اصول پہلے موجود ہوتے تو شاید انہیں اتنی تکالیف نہ اٹھانی پڑتیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ تشدد کیاگیا تاہم اس سے کہیں زیادہ انہیں نفسیاتی اور جذباتی طور پر پریشان کیا گیا۔

اس خاتون کا کہنا تھا کہ انہیں اس حد تک کنٹرول کیا گیا کہ ان کا اعتماد پوری طرح ختم ہوگیا جس کے بعد وہ خود پر بھی بھروسہ نہیں کر پا رہی تھیں۔

ان کا کہنا تھا چونکہ ان کے ساتھ مار پیٹ سے زیادہ انہیں نفسیاتی اور جذباتی طور پر حراساں کیا جاتا رہا اسی لیے وہ خود کو گھریلو تشدد کا شکار تصور نہیں کرتی تھیں۔

خاتون کا کہنا تھا کہ اگر انہیں اس بارے میں علم ہوتا کہ وہ جذباتی اور نفسیاتی تشدد کا شکار ہیں تو وہ اپنے ارد گرد ہو رہے واقعات کا اندازہ لگا پاتیں اور بہت پہلے ہی مدد حاصل کر لیتیں۔

پولیس چیف کانسٹیبل کامل نیپئیر کا کہنا ہے کہ گھریلو تشدد کی تشریح میں اس تبدیلی سے لوگوں میں اس بارے میں بیداری پیدا ہوگی