واشنگٹن: امریکی سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ انسانی ناک کم از کم ایک لاکھ کروڑ بُو یا مہک میں فرق کرسکتی ہے، پچھلے اندازوں کی تعداد سے یہ لاکھوں میں زیادہ ہے۔

کئی دہائیوں سے سائنسدان یہ مانتے چلے آرہے تھے کہ انسان صرف دس ہزار قسم کی بو یا مہک کو محسوس کرسکتا ہے، یہی وجہ تھی کہ انسان کی سونگھنے کی صلاحیت دیکھنے اور سننے کی صلاحیت سے کم سمجھی جاتی تھی۔

راکفیلر یونیورسٹی کی نیوروجینیٹک لیبارٹری کے سربراہ اور اس ریسرچ میں شریک لیسلے ووشال کا کہنا ہے کہ ہمارا تجزیہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ بُو میں فرق کرنے کی انسانی صلاحیت اس سے کہیں زیادہ ہے، جس کی کوئی بھی توقع کرسکتا ہے۔

ناک کی صلاحیت کے لیے لگائے گئےگزشتہ تخمینوں میں بتایا گیا تھا کہ قوتِ شامّہ سے متعلق چار سو ریسپٹرز اس سلسلے میں مدد کرتے ہیں، یہ تخمینے 1920ء کے ہیں، جن کی تصدیق کے لیے اعدادوشمار پیش نہیں کیے گئے تھے۔

سائنسدانوں نے تحقیق کی ہے کہ انسانی آنکھ اور اس کے صرف تین ریسپٹرز کئی لاکھ رنگوں میں فرق کرسکتے ہیں اور انسانوں کے کان تین لاکھ چالیس ہزار آوازوں میں امتیاز کرسکتے ہیں۔

لیسلے ووشال نے کہا کہ ’’قوتِ شامّہ کی جانچ کے لیے کسی نے کبھی وقت صرف نہیں کیا تھا۔‘‘

سائنسدانوں نے اپنی ریسرچ کے سلسلے میں 128 مختلف خوشبودار سالموں سے ایک مرکب تیار کیا، اس میں انفرادی طور پر گھاس، لیموں یا مختلف قسم کی کیمیائی مادّے شامل تھے، لیکن یہ سب تین گروپس میں یکجان کردیے گئے تھے۔

لیسلے ووشال نے کہا کہ ’’ہم چاہتے تھے کہ ہمارا تیار کردہ مرکب میں شامل اشیاء کی مہک کی شناخت نہ کی جاسکے، لہٰذا اس کوشش میں یہ مرکب بہت زیادہ عجیب اور کافی گندے ہوگئے تھے۔‘‘

ریسرچ میں شامل رضاکاروں کو ایک وقت میں تین شیشیوں میں ان مرکبات کے نمونے دیے گئے۔ ان میں سے دو تو ایک جیسے تھے، اور ایک مختلف تھا۔ ہم نے یہ دیکھنے کے لیے کہ وہ ان کو الگ الگ پہچان سکیں، اس طرح کے 264 موازنے مکمل کیے۔

128 خوشبوؤں کے تمام نمونوں کے ممکنہ مجموعوں میں سے کتنی مہک کو انسان اوسطاً علیحدہ علیحدہ شناخت کرسکتا ہے، سائنسدانوں نے اس تجربے سے اندازہ لگایا کہ یہ کم از کم ایک لاکھ کروڑ کے قریب قریب ہوسکتا ہے۔

اس ریسرچ ٹیم کے سربراہ انڈریاس کیلر کا تعلق بھی راک فیلر یونیورسٹی سے ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ تعداد یقیناً کہیں کم ہے، اس لیے کہ حقیقی دنیا میں اس سے کہیں زیادہ خوشبوئیں موجود ہیں جنہیں ملا کر لاتعداد نمونے تیار کیے جاسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے آباؤ اجداد ہم سے کہیں زیادہ قوت شامّہ پر انحصار کرتے تھےلیکن جدید دنیا میں ذاتی حفظانِ صحت کی ترقی نے خوشبوؤں کو محدود کردیا ہے۔

انڈریاس کیلر نے کہا کہ ’’ہمارے رویّوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے لیے قوت شامّہ سننے اور دیکھنے کے مقابلے میں زیادہ اہم نہیں ہے۔‘‘

بو کا احساس انسانی رویّے سے منسلک ہے اور سائنسدان زور دیتے ہیں کہ یہ ریسرچ اس حوالے سے روشنی ڈال سکتی ہے کہ انسانی دماغ کس طرح پیچیدہ اطلاعات پر عملدرآمد کرتا ہے۔

یہ ریسرچ جرنل سائنس میں شایع ہوئی ہے۔